ممبئی، 14/اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور شیو سینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے ملک کے لئے آمریت کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اتحادی حکومت کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لئے یہاں اتحادی حکومت قائم ہونی چاہئے جو سبھی کو ساتھ لے کر چلنے کا حوصلہ دکھائے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ ملک جو پہلے ہی آمریت کی یلغار جھیل رہا ہے اب پوری طرح سے آمریت کے شکنجے میں کس جائے گا۔ پہلے یہاں سے اپوزیشن کو ختم کیا جائے اور پھر دھیرے دھیرے جمہوریت کو ہی ختم کردیا جائے گا۔
ادھو ٹھاکرے نے اپنی رہائش گاہ ماتوشری پر جلگائوں ضلع کے مختلف پارٹی عہدیداروں کو شیو سینا میں شامل کرنے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ کسی مرکزی حکومت کے خلاف پورے ملک میں اتنی شدید ناراضگی واضح طور پر نظر آرہی ہے۔ عوام اس حکومت سے حیران ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں متبادل دیا جائے۔ اسی لئے ہمارا یہ موقف رہا ہے مرکز میں اتحادی حکومت بننی چاہئے ، کسی ایک پارٹی کو مکمل اقتدار نہیں ملنا چاہئے ورنہ وہ آمریت پر اتر آتی ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے بطور وزیر اعظم کسی مضبوط لیڈر کی حمایت کی لیکن کہا کہ مضبوط شبیہ کے علاوہ اس لیڈر کے پاس اپنے اتحادیوں کے احترام کا جذبہ بھی ہونا چاہئے۔انہوں نے موجودہ مودی سرکار پر شدید تنقید کرتے ہوئے مکمل اکثریت حاصل ہوجانے کی وجہ سے لیڈروں کا دماغ کیسے خراب ہو جاتا ہے اس کی واضح مثال مودی حکومت ہے اس لئے ہمیں اب نئی مودی سرکار نہیں چاہئے۔